29 نومبر 2013 - 20:30
آل خلیفہ کے خلاف بحرینی عوام کی نفرت میں شدت

آل خلیفہ کی جانب سے بحرینی عوام پر تشدد کا سلسلہ جاری رہنے کےباعث اس حکومت کےخلاف عوام کی نفرت میں شدت پیدا ہوگئي ہے۔

ابنا: آل خلیفہ کی شاہی حکومت ایسی حالت میں مظاہرین کے خلاف اپنا تشدد جاری رکھے ہوئے ہے کہ جب بحرینی عوام نے کل نماز جمعہ کے بعد پرامن مظاہرے کر کے اپنے ان جائز حقوق کا مطالبہ کیا جن کو آل خلیفہ کی شاہی حکومت مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ اور دوسرے شہروں میں مظاہرے کرنے والوں نے آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں کی آزادی اور عوام پر سیکورٹی فورسز کے تشدد کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔ آل خلیفہ کے کارندوں کو منامہ کے حساس مقامات پر تعینات کردیاگیا تھا۔ انھوں نے مظاہروں کا سلسلہ روکنے کے لۓ مظاہرین کو اپنی گولیوں اور آنسو گیس کے شیلوں کے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگۓ ۔ سیکورٹی فورسز نے دسیوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ہیومن رائٹس واچ کے محقق بلامرزاک نے کہا ہےکہ جب تک انسانی حقوق اور جمہوریت کے حامی ممالک مظاہرین پر تشدد ختم کرنےکے سلسلے میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت پر دباؤ نہیں ڈالیں گے اس وقت تک یہ حکومت عوامی تحریک کو کچلنے کے لۓ اپنے مظالم جاری رکھے گي۔بلا مرزاک نے مزید کہا کہ بحرینی حکومت اور اس کی سیکورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف تشویشناک حد تک آنسو گیس کا استعمال کرتی ہیں۔ بلا مرزاک نے مخالفین کے ساتھ  قومی مذاکرات پر مبنی بحرینی حکومت کے دعوے کو سفید جھوٹ سے تعبیر کیا  اور کہا کہ یہ دعوے ایسی حالت میں کۓ جارہے ہیں کہ جب بحرین کی جیلوں میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو ابتر صورتحال کا سامنا ہے۔بحرین میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن احمد الودائی نے بھی یورپ اور خطے کے بعض ممالک کی جانب سے آل خلیفہ کی حمایت کو عوام پر اس حکومت کے مظالم جاری رہنے کا سبب قرار دیا۔ احمد الودائی نے پریس ٹی وی کے ساتھ گفتگو کے دوران بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے کارندوں کے تشدد کو پاگل پن سے تعبیر کیا اور کہا کہ جب تک سعودی عرب ، امریکہ اور برطانیہ بحرین کے حکام کی حمایت کرتے رہیں گے اس وقت تک آل خلیفہ کی حکومت اپنے تشد آمیز اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گي۔الودائي نے بحرینی حکام کے اس رویۓ کی روک تھام کا واحد ذریعہ بحرینی عوام کی جانب سے آل خلیفہ کی حکومت پر دباؤ ڈالے جانے کو قرار دیا اور کہا کہ بحرینی عوام پر تشدد اس قدر بڑھ چکا ہے کہ آل خلیفہ کے فوجی لوگوں کے گھروں پر حملے کر کے گھر کے افراد کو گرفتار کرنے  کے بعد ایذا رسانی کے لۓ پولیس کے مراکز میں منتقل کردیتے ہیں۔احمد الودائی نے مزید کہا کہ آل خلیفہ کے یہ غیر انسانی اقدامات ایسی حالت میں جاری ہیں کہ جب عالمی ذرائع ابلاغ اور بعض یورپی حکومتوں نے ان اقدامات کے سلسلے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اورآل خلیفہ کی شاہی حکومت کسی طرح کے عالمی دباؤ کے بغیر عوام کی سرکوبی جاری رکھے ہوئے ہے۔   ......./169